
ذہنی صحت کا عالمی دن 2026
اپنے خیالات، جذبات اور اندرونی دنیا کو سمجھنے کی طرف ایک قدم
ذہنی صحت کا عالمی دن 2026: اپنے آپ کو سمجھیں اپنے خیالات، جذبات اور اندرونی دنیا کو سمجھنے کی طرف ایک قدم تحریر: Tayyab Murtaza — Clinical Psychologist & Hypnotherapist CEO, Fatima Hope & Psychological Centre ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ دوسروں کو خوش رکھنے، اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے، اپنے مستقبل کو بہتر بنانے اور مسائل حل کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ ہم صبح اٹھتے ہیں، کام پر جاتے ہیں، خاندان کی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں اور اپنی زندگی کو معمول کے مطابق چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بظاہر سب کچھ ٹھیک دکھائی دیتا ہے، لیکن بعض اوقات انسان کے اندر ایک ایسی تھکن جمع ہوتی رہتی ہے جسے وہ خود بھی پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ کبھی دل اداس رہتا ہے، کبھی معمولی بات پر غصہ آ جاتا ہے، کبھی مستقبل کا خوف سکون نہیں لینے دیتا اور کبھی انسان لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی تنہائی محسوس کرتا ہے۔ ایسے وقت میں ہم اکثر خود سے کہتے ہیں کہ مجھے مضبوط ہونا چاہیے، مجھے زیادہ نہیں سوچنا چاہیے یا مجھے اپنی پریشانیوں کو نظرانداز کر دینا چاہیے۔ لیکن کیا خود کو بار بار سمجھانا واقعی ہماری اندرونی کیفیت کو بدل دیتا ہے؟ کیا اپنے جذبات کو چھپانے سے وہ ختم ہو جاتے ہیں؟ اور کیا ہم دوسروں کو سمجھنے کی کوشش میں خود کو سمجھنا بھول گئے ہیں؟ ذہنی صحت کا عالمی دن ہمیں انہی سوالات پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ دن صرف ذہنی بیماریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے یا آگاہی کے پیغامات شیئر کرنے کا نام نہیں۔ یہ اپنے اندر جھانکنے، اپنی کیفیت کو پہچاننے اور یہ سمجھنے کا بھی موقع ہے کہ ہم اپنی زندگی کس طرح گزار رہے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو آخر کتنا جانتے ہیں؟ اگر میں آپ سے پوچھوں کہ آپ کو کس بات پر غصہ آتا ہے، کون سی بات آپ کو اداس کرتی ہے یا آپ کو کس چیز کا خوف ہے، تو شاید آپ ان سوالات کے جواب دے سکیں۔ لیکن اگر میں یہ پوچھوں کہ آپ کا غصہ بار بار کیوں پیدا ہوتا ہے، آپ دوسروں کی رائے سے اتنے متاثر کیوں ہوتے ہیں یا کسی شخص کی دوری آپ کے اندر اتنی بے چینی کیوں پیدا کرتی ہے، تو ممکن ہے آپ کو کچھ دیر سوچنا پڑے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم اکثر اپنے رویوں کو دیکھتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے موجود خیالات اور جذبات کو سمجھنے کی کوشش کم کرتے ہیں۔ مثلاً، ایک شخص کو کسی دوست کا جواب نہیں ملتا۔ وہ بار بار اپنا فون چیک کرتا ہے، پریشان ہوتا ہے اور آخرکار یہ سوچنے لگتا ہے کہ شاید اس دوست کو اب اس کی پروا نہیں رہی۔ ممکن ہے یہ خیال درست ہو، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرا شخص کسی کام میں مصروف ہو۔ مسئلہ صرف جواب نہ ملنے کا نہیں؛ اس واقعے کے بارے میں بننے والی سوچ بھی اس شخص کی کیفیت پر اثر ڈال رہی ہے۔ اسی طرح، کسی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ صرف اپنی غلطی کو دیکھنے کے بجائے خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے۔ کسی تعلق میں اختلاف ہو تو وہ اختلاف کو حل کرنے کے بجائے اپنی پوری شخصیت پر سوال اٹھانے لگتا ہے۔ ہماری زندگی میں ایسے بہت سے لمحے آتے ہیں جب ایک واقعہ ہمارے ذہن میں ایک کہانی بن جاتا ہے، اور پھر ہم اس کہانی کے مطابق محسوس کرنے اور عمل کرنے لگتے ہیں۔ اپنے آپ کو سمجھنے کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے ردعمل کو صرف درست یا غلط قرار دینے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے اندر کیا ہو رہا ہے۔ آپ اپنی موجودہ کیفیت نہیں ہیں اپنے آپ کو سمجھنے کے سفر میں ایک بات بہت اہم ہے: ہم اکثر اپنی موجودہ کیفیت کو اپنی پوری شناخت بنا لیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص مسلسل پریشانی محسوس کرتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے، ’’میں بہت کمزور ہوں۔‘‘ اگر کسی کو زندگی میں ناکامی کا سامنا ہو تو وہ خود کو ناکام انسان سمجھنے لگتا ہے۔ اگر کوئی شخص ڈپریشن سے گزر رہا ہو تو اسے محسوس ہو سکتا ہے کہ اس کی زندگی میں اب خوشی کی کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ لیکن ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں۔ کیا کسی مشکل سے گزرنا اور خود ایک مشکل بن جانا ایک ہی بات ہے؟ کیا کسی غلطی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی پوری شخصیت غلط ہے؟ اور کیا موجودہ تکلیف ہمیشہ اسی شدت کے ساتھ باقی رہے گی؟ میں اپنے کلائنٹس کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس فرق کو اہم سمجھتا ہوں کہ انسان اپنی کیفیت کو پہچانے، لیکن اپنی پوری شناخت اسی کیفیت کے حوالے نہ کر دے۔ اگر آپ اداس ہیں تو آپ اداسی محسوس کر رہے ہیں۔ اگر آپ خوفزدہ ہیں تو آپ خوف سے گزر رہے ہیں۔ اگر آپ بے چینی محسوس کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی شخصیت کا ہر پہلو بے چینی سے متعین ہوتا ہے۔ یہ فرق صرف الفاظ کا فرق نہیں۔ یہ اپنے بارے میں سوچنے کے انداز میں تبدیلی ہے۔ جب انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ ایک کیفیت سے گزر رہا ہے، تو اس کے لیے اپنی صورتحال کو دیکھنا، مدد حاصل کرنا اور تبدیلی کے امکانات تلاش کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شدید ذہنی تکلیف کو معمولی سمجھا جائے۔ ڈپریشن، اینزائٹی اور دوسری ذہنی مشکلات حقیقی مسائل ہیں جن کے لیے مناسب مدد اور علاج ضروری ہو سکتے ہیں۔ لیکن اپنی تکلیف کو تسلیم کرنے کے ساتھ یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ انسان کی پوری زندگی صرف اس تکلیف تک محدود نہیں ہوتی۔ جذبات ہمارے دشمن نہیں ہیں ہم میں سے بہت سے لوگوں کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ رونا کمزوری ہے، غصہ برا ہے، خوف کا اظہار نہیں کرنا چاہیے اور پریشان ہونے کا مطلب ہے کہ ہم حالات کا سامنا نہیں کر پا رہے۔ وقت کے ساتھ ہم اپنے جذبات کو سمجھنے کے بجائے انہیں چھپانا سیکھ سکتے ہیں۔ لیکن جذبات انسانی زندگی کا فطری حصہ ہیں۔ خوشی، غم، خوف، غصہ، مایوسی اور محبت سب ہمارے تجربات کا حصہ ہیں۔ ہر احساس ایک جیسا نہیں ہوتا اور ہر احساس کے پیچھے ایک ہی وجہ نہیں ہوتی۔ مثلاً، غصہ کبھی کسی ناانصافی کے احساس سے پیدا ہوتا ہے، کبھی تھکن سے اور کبھی اس وقت جب ہمیں لگتا ہے کہ کوئی ہماری بات نہیں سمجھ رہا۔ خوف کبھی حقیقی خطرے کی طرف توجہ دلاتا ہے، جبکہ بعض اوقات مستقبل کے بارے میں ہمارے اندازے اسے بڑھا دیتے ہیں۔ اداسی کبھی کسی نقصان کے بعد پیدا ہوتی ہے، اور کبھی مسلسل دباؤ، تنہائی یا دوسری مشکلات کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ اس لیے جب کوئی احساس پیدا ہو تو خود سے فوراً یہ کہنا ضروری نہیں کہ مجھے ایسا محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے بجائے ہم پوچھ سکتے ہیں: میں کیا محسوس کر رہا ہوں؟ یہ کیفیت کس صورتحال میں پیدا ہوئی؟ کیا مجھے کسی مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے، کچھ آرام چاہیے یا کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہے؟ یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے: جذبات کو قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کے مطابق ہر عمل کو درست سمجھ لیں۔ آپ کو غصہ آ سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی کو نقصان پہنچائیں۔ آپ کو خوف محسوس ہو سکتا ہے، لیکن ہر خوف کی بنیاد پر اہم فیصلے کرنا ضروری نہیں۔ آپ اداس ہو سکتے ہیں، لیکن اپنی زندگی سے مکمل طور پر الگ ہو جانا ہی واحد راستہ نہیں۔ جذبات کو سمجھنا اور ان کے مطابق سوچ سمجھ کر عمل کرنا، دونوں ذہنی صحت کے اہم حصے ہیں۔ اپنے خیالات کو دیکھنا سیکھیں انسانی ذہن مسلسل سوچتا رہتا ہے۔ کبھی ہم ماضی کے واقعات کو بار بار یاد کرتے ہیں، کبھی مستقبل کے بارے میں خدشات میں مبتلا رہتے ہیں اور کبھی اپنے بارے میں ایسے فیصلے کرتے ہیں جن کی بنیاد محدود معلومات پر ہوتی ہے۔ مثلاً، آپ سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے اور ذہن کہتا ہے، ’’میں کبھی کچھ ٹھیک نہیں کر سکتا۔‘‘ کوئی آپ کی بات سے اختلاف کرتا ہے اور آپ سوچنے لگتے ہیں، ’’کوئی مجھے سمجھتا ہی نہیں۔‘‘ مستقبل میں کسی مشکل کا امکان سامنے آتا ہے تو ذہن فوراً بدترین نتیجہ تصور کرنے لگتا ہے۔ یہ خیالات بعض اوقات اتنے حقیقی محسوس ہوتے ہیں کہ ہم ان پر سوال اٹھانا بھول جاتے ہیں۔ لیکن کسی خیال کا بار بار آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ لازماً درست ہے۔ نفسیاتی علاج، خصوصاً Cognitive Behavioural Therapy (CBT)، میں انسان کو اپنے خیالات، جذبات اور رویوں کے تعلق کو سمجھنے میں مدد دی جاتی ہے۔ اس عمل میں ہم اپنے خیالات کو پہچانتے ہیں، ان کے حق میں موجود شواہد دیکھتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا صورتحال کو کسی دوسرے زاویے سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ مثلاً، ’’میں ناکام ہوں‘‘ کے بجائے انسان یہ دیکھ سکتا ہے کہ ’’مجھے اس کام میں ناکامی ہوئی ہے، لیکن میں اس تجربے سے کیا سیکھ سکتا ہوں؟‘‘ اس تبدیلی کا مطلب اپنی غلطی سے انکار کرنا نہیں، بلکہ ایک واقعے کو اپنی پوری شناخت بنانے سے بچنا ہے۔ اپنے خیالات کو دیکھنے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہم ہر خیال کے ساتھ فوراً بہنے کے بجائے کچھ دیر رکنا سیکھیں۔ خیال آئے تو اسے پہچانیں، اس کا جائزہ لیں اور پھر فیصلہ کریں کہ اس کے مطابق عمل کرنا مناسب ہے یا نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اپنے آپ کو سمجھنا روزمرہ زندگی میں ایک عملی مہارت بن جاتا ہے۔ آگاہی: اپنے اندر ہونے والی کیفیت کو پہچاننا اپنے آپ کو سمجھنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہم ہر وقت اپنی زندگی کا تجزیہ کرتے رہیں۔ بعض اوقات صرف چند لمحے رک کر یہ دیکھنا کافی ہوتا ہے کہ اس وقت ہمارے اندر کیا ہو رہا ہے۔ فرض کریں کہ آپ کسی بات پر غصے میں ہیں۔ آپ فوراً جواب دینے کے بجائے چند لمحے رک جاتے ہیں۔ آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے کندھوں میں تناؤ ہے، ذہن میں سخت جملے آ رہے ہیں اور آپ کا دل چاہ رہا ہے کہ فوراً سامنے والے کو جواب دیں۔ اس مختصر وقفے میں آپ اپنے احساس کو پہچان سکتے ہیں۔ آپ یہ فیصلہ بھی کر سکتے ہیں کہ ابھی جواب دینا مناسب ہے یا کچھ دیر بعد بات کرنا بہتر ہوگا۔ اسی طرح، جب آپ کو بے چینی محسوس ہو تو آپ اپنے جسم اور خیالات پر توجہ دے سکتے ہیں۔ کیا آپ مستقبل کے کسی ایسے امکان کے بارے میں پریشان ہیں جو ابھی پیش نہیں آیا؟ کیا کوئی حقیقی مسئلہ ہے جس کے لیے عملی قدم اٹھانا ضروری ہے؟ یا آپ اس وقت تھکن اور دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں؟ یہ سوالات ہر مسئلے کو فوراً حل نہیں کرتے، لیکن یہ ہمیں اپنی کیفیت کے بارے میں زیادہ واضح ہونے میں مدد دے سکتے ہیں۔ آگاہی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے جذبات سے مکمل طور پر آزاد ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انہیں پہچاننے اور ان کے ساتھ بہتر انداز میں پیش آنے کی کوشش کرے۔ اپنے آپ سے فرار کے بجائے اپنے آپ سے تعلق آج کی زندگی میں ہمارے پاس خود کو مصروف رکھنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ موبائل فون، سوشل میڈیا، ویڈیوز، کام اور دوسری سرگرمیاں ہماری توجہ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی رہتی ہیں۔ ان چیزوں کا استعمال بذاتِ خود غلط نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب ہم ہر بار کسی مشکل احساس سے بچنے کے لیے فوراً خود کو مصروف کر لیتے ہیں۔ کبھی انسان تنہائی محسوس کرتا ہے تو مسلسل فون استعمال کرنے لگتا ہے۔ کبھی ذہن پریشان ہوتا ہے تو وہ خود کو کام میں اس قدر مصروف کر لیتا ہے کہ اپنے آرام کی ضرورت کو بھی نظرانداز کر دیتا ہے۔ کبھی کسی تعلق میں تکلیف ہوتی ہے تو وہ اپنے احساسات کو سمجھنے کے بجائے ان سے مکمل طور پر بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ وقتی طور پر توجہ بدلنے سے سکون مل سکتا ہے، اور بعض حالات میں یہ مفید بھی ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم کبھی اپنے اندر ہونے والی کیفیت کو سمجھنے کے لیے رکیں ہی نہیں تو ممکن ہے کہ کچھ مسائل بار بار ہماری زندگی میں سامنے آتے رہیں۔ اپنے آپ سے تعلق پیدا کرنے کا مطلب ہر وقت ماضی کی تکلیفوں میں رہنا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے احساسات، ضروریات اور حدود کو پہچانیں۔ یہ جانیں کہ کب ہمیں آرام کی ضرورت ہے، کب کسی سے بات کرنی چاہیے اور کب کسی مسئلے کا عملی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ کبھی کبھی اپنے لیے چند منٹ نکالنا، خاموشی سے بیٹھنا، چہل قدمی کرنا یا اپنے خیالات لکھ لینا بھی اپنے اندر کی کیفیت کو سمجھنے کا ایک مفید آغاز ہو سکتا ہے۔ کیا سکون کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں کوئی مسئلہ نہ ہو؟ ہم اکثر سکون کو ایک ایسی حالت سمجھتے ہیں جس میں کوئی پریشانی نہ ہو، کوئی خوف نہ ہو اور سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق ہو۔ لیکن حقیقی زندگی ہمیشہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں چلتی۔ رشتوں میں اختلافات آتے ہیں، کام میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں، کبھی صحت متاثر ہوتی ہے اور کبھی ہمیں ایسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنہیں فوری طور پر بدلا نہیں جا سکتا۔ اگر ہم یہ شرط رکھیں کہ جب تک تمام مسائل ختم نہیں ہوں گے، ہم سکون محسوس نہیں کر سکتے، تو ہماری خوشی ہمیشہ مستقبل کے حوالے ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو مشکلات قبول کر کے بیٹھ جانا چاہیے۔ حقیقی مسائل کا حل تلاش کرنا، اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا، غیرمحفوظ حالات سے نکلنا اور ضرورت پڑنے پر مدد حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ لیکن بعض حالات میں ہمیں یہ بھی سیکھنا پڑتا ہے کہ جس چیز کو ہم اس وقت تبدیل نہیں کر سکتے، اس کے بارے میں اپنی کیفیت کو کیسے سنبھالیں اور اگلا مناسب قدم کیسے اٹھائیں۔ یہاں acceptance یعنی حقیقت کو تسلیم کرنے کا تصور اہم ہو جاتا ہے۔ حقیقت کو تسلیم کرنا ہار ماننا نہیں۔ یہ اس بات کو سمجھنا ہے کہ اس وقت صورتحال کیا ہے، میرے اختیار میں کیا ہے اور مجھے کس جگہ مدد کی ضرورت ہے۔ کبھی تبدیلی حالات میں قدم اٹھانے سے آتی ہے، کبھی اپنے ردعمل کو سمجھنے سے، اور کبھی دونوں چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے آپ کو سمجھنے کے لیے چند عملی سوالات ذہنی صحت کے اس عالمی دن پر آپ اپنے لیے چند منٹ نکال کر ان سوالات پر غور کر سکتے ہیں۔ ان کے جواب درست یا غلط نہیں ہیں۔ مقصد اپنے آپ کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں، بلکہ اپنی کیفیت کو بہتر طور پر سمجھنا ہے۔ پہلا سوال: اس وقت میری زندگی میں کون سی بات مجھے سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے؟ دوسرا سوال: جب میں پریشان ہوتا ہوں تو میرا عام ردعمل کیا ہوتا ہے؟ کیا میں غصہ کرتا ہوں، خاموش ہو جاتا ہوں، بار بار سوچتا ہوں یا خود کو مصروف کر لیتا ہوں؟ تیسرا سوال: کیا میں اپنے بارے میں سخت فیصلے کرتا ہوں؟ مثلاً کیا میں ایک غلطی کے بعد خود کو ناکام یا کمزور سمجھنے لگتا ہوں؟ چوتھا سوال: میری زندگی میں کون سی چیز میرے اختیار میں ہے جسے بہتر بنانے کے لیے میں آج ایک چھوٹا قدم اٹھا سکتا ہوں؟ پانچواں سوال: کیا کوئی ایسی کیفیت ہے جس کے لیے مجھے کسی قابلِ اعتماد شخص یا ذہنی صحت کے ماہر سے مدد لینے کی ضرورت ہے؟ ان سوالات کے جواب لکھنا بھی مفید ہو سکتا ہے۔ کبھی اپنے خیالات کو الفاظ میں بیان کرنے سے ہمیں وہ باتیں واضح نظر آنے لگتی ہیں جو ذہن میں مسلسل چلتے رہنے کی وجہ سے الجھی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ ذہنی صحت کے لیے مدد لینا کیوں ضروری ہے؟ اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش اہم ہے، لیکن ہر ذہنی مسئلے کو اکیلے حل کرنا ضروری نہیں اور نہ ہی ہر مسئلہ صرف سوچ بدلنے سے حل ہوتا ہے۔ ڈپریشن، شدید اینزائٹی، ٹراما اور دوسری ذہنی مشکلات انسان کی نیند، کام، تعلقات اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اگر اداسی یا بے چینی طویل عرصے تک برقرار رہے، روزمرہ کام مشکل ہو جائیں یا تکلیف بڑھتی جائے تو کسی qualified mental health professional سے رابطہ کرنا مناسب ہے۔ Psychotherapy میں انسان کو اپنی مشکلات سمجھنے، خیالات اور رویوں میں تبدیلی لانے، جذبات کو سنبھالنے اور بہتر coping skills سیکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ علاج کا طریقہ فرد کی ضرورت، علامات اور صورتحال کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ بعض حالات میں طبی جائزہ اور ادویات بھی ضروری ہو سکتی ہیں۔ مدد لینا اس بات کی علامت نہیں کہ انسان کمزور ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی صحت کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ ہمیں ذہنی صحت کے بارے میں ایسی گفتگو کو عام کرنا چاہیے جس میں انسان اپنی تکلیف بیان کرتے ہوئے شرمندگی محسوس نہ کرے اور اسے مدد حاصل کرنے کے لیے کسی فیصلے یا الزام کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اختتام: دنیا کو سمجھنے کے ساتھ خود کو بھی سمجھیں ہم اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہتر تعلیم، بہتر روزگار، اچھے تعلقات اور ایک پُرسکون مستقبل ہماری خواہشات کا حصہ ہوتے ہیں۔ لیکن اس سفر میں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو نظرانداز نہ کریں۔ اپنے جذبات کو پہچانیں۔ اپنے خیالات کو سوال کرنے کی جگہ دیں۔ اپنی غلطیوں سے سیکھیں۔ اپنی حدود کو سمجھیں۔ جب تھکن محسوس ہو تو آرام کریں، جب ضرورت ہو تو مدد لیں اور جب کوئی مسئلہ آپ کے اختیار میں ہو تو اسے بہتر بنانے کے لیے قدم اٹھائیں۔ اپنے آپ کو سمجھنے کا مطلب کامل انسان بننا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی کمزوریوں اور خوبیوں دونوں کو پہچانیں، اپنی مشکلات کو تسلیم کریں اور اپنی زندگی میں تبدیلی کے امکانات کے لیے جگہ باقی رکھیں۔ ذہنی صحت کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ذہنی صحت صرف بیماری کی عدم موجودگی کا نام نہیں؛ یہ اپنی روزمرہ زندگی، جذبات، تعلقات اور ذمہ داریوں کے ساتھ ایک بہتر تعلق پیدا کرنے کا سفر بھی ہے۔ شاید ہمیں کبھی کبھی زندگی کی رفتار کم کر کے خود سے صرف اتنا پوچھنے کی ضرورت ہے: میں واقعی کیسا محسوس کر رہا ہوں، اور مجھے اپنے آپ کو بہتر سمجھنے کے لیے اس وقت کس چیز کی ضرورت ہے؟ کیونکہ دوسروں کو سمجھنا اہم ہے، دنیا کو سمجھنا بھی ضروری ہے، لیکن اپنے آپ کو سمجھنا وہ سفر ہے جس کا اثر ہماری زندگی کے تقریباً ہر حصے پر پڑ سکتا ہے۔ اس ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے پر اپنے آپ کو سمجھنے کے لیے ایک قدم اٹھائیں۔ Tayyab Murtaza Clinical Psychologist & Hypnotherapist CEO, Fatima Hope & Psychological Centre World Mental Health Day 2026 — A Healthier Mind, A Brighter Tomorrow
